فتنۃ الخوارج نے فیڈرل کانسٹیبلری کے زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو آگ لگا کے ان مریضوں کو زندہ جلا دیا۔
آگ میں جلا کے شہید کیے جانے والے فیڈرل کانسٹیبلری کے تمام اہلکار خیبر پختونخوا کے مقامی تھے۔
خوارج نے اس واقعے کی پوری فلم بندی کر کے اُس کو سوشل میڈیا پر ڈال دیا۔ اس طرح کی بربریت سے خوارجین کا ایک ہی مقصد ہے کہ عوام میں خوف و دہشت پھیلائی جا سکے۔
رمضان کے مقدس مہینے میں خوارج کی جانب سے ایک سافٹ ٹارگٹ کو چنا جانا اور زخمیوں کے ساتھ ظلم ایک کھلی بربریت اور اسلام کے منافی عمل ہے۔
تفصیلات کے مطابق، 23 فروری 2026 کو کرک کے علاقے قلعہ شہیدان میں فیڈرل کانسٹیبلری کی پوسٹ پر فتنۃ الخوارج نے کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا

More Stories
ٹرمپ کا ایرانی یورینیم پر قبضے کا ارادہ، ماہرین نے وارننگ جاری کردی
فرانس 24 کے نام پر جعلی ڈس انفارمیشن بے نقاب، وائرل ویڈیو کا بھانڈا پھوٹ گیا
پاسدارانِ انقلاب نے نئے ترجمان کی تقرری کا اعلان کردیا