اسلام آباد:
غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) میں پاکستانی دستوں کی شمولیت کے حوالے سے پاکستان نے تاحال اپنے پتے ظاہر نہیں کیے۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ ان کے نو تشکیل شدہ ’’ بورڈ آف پیس ‘‘ کے رکن ملکوں نے اپنی پہلی سربراہی ملاقات سے قبل ہی ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔
’’ بورڈ آف پیس ‘‘ کا پہلا باقاعدہ اجلاس منگل 19 فروری کو واشنگٹن میں ہوگا جہاں توقع ہے کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے کی تفصیلات اور فلسطینی علاقے کے لیے اقوامِ متحدہ سے منظور شدہ استحکام فورس کے ڈھانچے کی وضاحت کریں گے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی اس سربراہی اجلاس میں شرکت کرینگے۔
تاہم اسلام آباد میں حکام اس سوال پر خاموش ہیں کہ آیا پاکستان نے اس بین الاقوامی فورس کے حصے کے طور پر اپنے فوجی دستے بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے یا نہیں۔
سکیورٹی اور دفترِ خارجہ کے ذرائع نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کے عزم کی تصدیق یا تردید سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ فی الوقت زیرِ بحث اور حساس نوعیت کا ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عہدیدار نے بتایا کہ ابھی تک کوئی بھی فیصلہ عوامی سطح پر سامنے نہیں لایا گیا۔

More Stories
بابر، شاہین اور شاداب کو باہر بٹھاؤ، نئے لڑکوں کو موقع دو، آفریدی بھارت سے شکست کے بعد برہم
بنگلادیشی وزیراعظم طارق رحمان کی تقریب حلف برداری میں پاکستان کی نمائندگی احسن اقبال کریں گے
معرکہ حق میں خفت کے بعد بھارت کے جنگی جنون میں اضافہ، 26 کے بجائے 31 رافیل طیارے خریدے گا