ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری پُرتشدد احتجاج میں مزید شدت آ گئی ہے، جہاں تازہ واقعات کے دوران مظاہرین کی فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ کم از کم 30 زخمی ہو گئے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق صوبہ چہارمحال و بختیاری کے شہر لردگان میں احتجاج اس وقت پُرتشدد صورت اختیار کر گیا جب دکانداروں نے شٹر ڈاؤن کے بعد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر حکومت مخالف نعرے بازی کی۔
اس دوران مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور بعض افراد نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی۔
رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے لردگان میں گورنر کے دفتر اور دیگر سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا۔
ادھر شمالی خراسان کے شہر بجنورد میں ایک دکان کو آگ لگا دی گئی، تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے قریب کھڑی ایک شہری کی گاڑی کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا

More Stories
ایران کا جنگ میں امریکا کے دوسرے جدید ترین لڑاکا طیارے F-35 کو تباہ کرنے کا دعویٰ
گورنر پنجاب اور گورنر خیبرپختونخوا کے درمیان پیڈل ٹینس کا دلچسپ مقابلہ
نوشہرہ: غیر قانونی ذخیرہ شدہ ایک لاکھ 5 ہزار لیٹر پیٹرول اور ڈیزل ضبط