یہ ایک تلخ مگر اٹل حقیقت ہے کہ من پسند سیاسی قیادت، بلند بانگ معاشی منصوبے اور خوش کن نعرے اُس وقت ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں، جب ریاست کے دفاعی بازو کمزور پڑ جائیں۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جن قوموں نے اپنی افواج کو کم تر جانا، اُنہیں وقت نے غلامی کے زنجیروں میں جکڑ دیا۔ وہ ریاستیں جن کے پاس تیل کے سمندر تھے، سونا تھا، وسائل کی فراوانی تھی، مگر اپنی افواج سے بے وفائی کی، آج اُن کے کھنڈرات پر اُلو بولتے ہیں۔کیا ہم نے لیبیا کو نہیں دیکھا؟ وہ لیبیا جہاں افریقا کی سب سے مضبوط معیشت تھی، جہاں عوام کو گھروں، علاج اور تعلیم کی سہولتیں میسر تھیں، مگر جب فوج کو کمزور کیا گیا، جب بیرونی طاقتوں کے اشارے پر ریاستی دفاع کو مشکوک بنایا گیا، تو وہاں ریاست بکھر گئی، قبائل میں تقسیم ہو گئی، اور عزتِ نفس تاریخ بن گئی۔ نہ قانون، نہ عزت، نہ امن بچا۔ وہی لوگ جو کل ”آزادی“ کے نعرے لگاتے تھے، آج لاشوں پر بیٹھ کر اپنے ہی فیصلوں پر نوحہ کناں ہیں۔یہ کیسا فریب ہے جو ہمارے اذہان میں اُتارا جا رہا ہے کہ بس میرا لیڈر، میرا صوبہ، میری زبان، میری تہذیب، میری معیشت، میری چمکتی سڑکیں۔ اِدھر تاریخ چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ جب ریاست کے بازو کمزور ہوجائیں، تو ترقی کی ساری عمارت ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ عراق کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ صدام حسین کا دور سخت تھا، مگر ریاست قائم تھی۔ پھر وقت آیا کہ صدام کے بدترین مخالفین بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ’’کاش وہی دور لوٹ آئے، کم از کم ملک تو تھا۔‘‘ آج عراق خون میں نہا رہا ہے، نسلیں تباہ ہو چکی ہیں، اور فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں۔ کن سے پوچھیں جنہوں نے اِس نہج پر پہنچایا وہ باقی نہیں رہے۔وینزویلا کا المیہ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ہے کہ وسائل طاقت کے بغیر بوجھ بن جاتے ہیں۔ تیل کے وہ کنویں جن پر پوری دنیا کی نظریں تھیں، آج حکمرانوں کو نہیں بچا سکے۔ تیل، سونا، سب بیکار ہوگیا، کیونکہ ریاست کے دفاعی ستون کمزور کردیے گئے۔ امریکی دباؤ، عالمی پابندیاں اور اندرونی خلفشار نے ثابت کردیا کہ طاقت کے بغیر معیشت ایک لاش ہے جس پر صرف کفن چڑھایا جا سکتا ہے۔یہ وہ تلخ حقائق ہیں جنہیں نظر انداز کرکے اگر کوئی پاکستانی اپنی ہی فوج پر انگلی اٹھاتا ہے، تو وہ دراصل اپنے بچوں کے مستقبل پر خنجر چلاتا ہے۔ پاکستان کوئی عام ریاست نہیں۔ یہ ایک نظریے پر وجود میں آیا، اور اس نظریے کی حفاظت کا بار سب سے پہلے پاک فوج نے اٹھایا

About The Author