پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی سزائیں درست قرار دے دیں۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس فضل سبحان پر مشتمل بینچ نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی سزاؤں کےخلاف اپیلوں پر سماعت کی۔
دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ مجرمان کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے اور مجرمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبال جرم کیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملٹری کورٹ نے تمام تقاضے پورے کیے، اپیل کا حق اور مرضی کا وکیل دیا۔
بعد ازاں عدالت نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی سزاؤں کے خلاف تین اپیلوں کو خارج کردیا اور ملزمان کی سزاؤں کو برقرار رکھا۔
واضح رہے کہ ملٹری کورٹ نے ایک مجرم کو عمرقید، دوسرےکو 20 سال اور تیسرےکو 16 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
سپریم کورٹ نے 7 مئی کو سیویلینز کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کا فیصلہ سناتے ہوئے آرمی ایکٹ کو اس کی اصل شکل میں بحال کردیا تھا۔


More Stories
لبنان میں ہیلتھ سینٹر پر اسرائیلی حملہ، 12 طبی کارکنان جاں بحق
موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل شروع، فیس کتنی ہے
’’خیبر پختونخوا میں گورنر راج‘‘ رانا ثنا اللہ نے بڑی بات کہہ دی