امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیئم کو قبضے میں لینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جسے ماہرین ایک نہایت حساس اور خطرناک ارادہ قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی سلامتی اور جوہری امور کے ماہرین کے مطابق کسی ملک کے جوہری مواد پر زبردستی قبضہ کرنا خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس سے براہِ راست فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سے تابکاری کے خطرات اور یہ بڑے انسانی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ مزید برآں یہ عالمی جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے نزدیک بھی اس یکطرفہ اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
ماہرین اس سے بھی خبردار کرتے ہیں کہ اس طرف کے اقدام سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہوگیا اور عالمی طاقتوں (روس، چین وغیرہ) کی مداخلت ہوسکتی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر شدید اثر پڑے گا

More Stories
فرانس 24 کے نام پر جعلی ڈس انفارمیشن بے نقاب، وائرل ویڈیو کا بھانڈا پھوٹ گیا
پاسدارانِ انقلاب نے نئے ترجمان کی تقرری کا اعلان کردیا
ایران کا جنگ میں امریکا کے دوسرے جدید ترین لڑاکا طیارے F-35 کو تباہ کرنے کا دعویٰ