مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں خلیجی ممالک نے امریکا کو واضح پیغام دیتے ہوئے صرف عارضی جنگ بندی کو ناکافی قراردے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیان خلیجی تعاون کونسل کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے کو صرف وقتی سیزفائر نہیں چاہیے بلکہ ایرانی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں سے ممکنہ خطرات کے خلاف دفاعی تعاون اور تحفظ کی بھی ضرورت ہے۔
کونسل کا مزید کہنا تھا کہ خطے کو علاقائی سیکیورٹی کی ضمانت چاہیے۔ امارات پالیسی سینٹر کے صدر ابتسام الکربی کا کہنا تھا کہ اصل چیلنج ایران کو جنگ روکنے پر آمادہ کرنا نہیں بلکہ خطے کو ایران سے پیدا ہونے والے آئیندہ خطرات سے پائیدار تحفظ فراہم کرنا ہے۔
امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے بھی جنگ بندی کو امتحان کے طور پر وضع کیا اور کہا کہ اگر ایرانی صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم یا پابندیوں کے تحت نہیں لایا گیا تو جنگ بندی کے بعد بھی ایران عالمی معیشت کو یرغمال بنا سکتا ہے۔
خلیجی تعاون کونسل کے امریکا سے مطالبات میں ایران پراکسی جنگوں جیسے یمن اور غزہ میں مسلح دھڑوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں کونسل نے زیادہ فعال سفارتکاری پر بھی زور دیا اور کہا کہ صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

More Stories
ایران کا جنگ میں امریکا کے دوسرے جدید ترین لڑاکا طیارے F-35 کو تباہ کرنے کا دعویٰ
گورنر پنجاب اور گورنر خیبرپختونخوا کے درمیان پیڈل ٹینس کا دلچسپ مقابلہ
نوشہرہ: غیر قانونی ذخیرہ شدہ ایک لاکھ 5 ہزار لیٹر پیٹرول اور ڈیزل ضبط