قومی اسمبلی میں بلز کی منظوری، حکومتی اتحادی جماعتیں آمنے سامنے آ گئیں

قومی اسمبلی نے نصاب تعلیم، درسی کتب اور تعلیمی معیارات کی وفاقی نگرانی سے متعلق ترمیمی بل 2026 بھی منظور کرلیا۔

اجلاس کے دوران حکومتی اتحادی جماعتیں بھی آمنے سامنے آ گئیں جب پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے ایک بل کی مخالفت کر دی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے خواجہ اظہار الحسن کے بل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس بل کو منظور نہ کیا جائے اور اس پر مزید غور کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر خواجہ اظہار الحسن نے مؤقف اختیار کیا کہ بل کمیٹی سے پاس ہو چکا ہے، اسے منظور کیا جائے۔ ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے بل مؤخر کرنے کی تجویز دی جس کی وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہیں۔

خواجہ اظہار الحسن نے مؤقف پیش کیا کہ دوران ڈکیتی اور سنیچنگ قتل کے مقدمات انسداد دہشتگردی عدالت میں چلائے جائیں، تاہم نوید قمر نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ قتل کسی بھی نوعیت کا ہو اسے سول یا سیشن جج کو دیکھنا چاہیے کیونکہ انسداد دہشتگردی عدالتیں خاص مقاصد کے لیے بنائی گئی ہیں اور اس سے ان عدالتوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پھر کہیں انسداد دہشتگردی کے کیسز فوجی عدالتوں کو بھی نہ بھیج دیے جائیں۔

بحث کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے بل کی منظوری مؤخر کر دی جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاج کیا اور بعد ازاں ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

دوارنِ اجلاس اپوزیشن رکن جنید اکبر خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہم پر مسلط حکومت نے بورڈ آف پیس میں جانے کے وقت اس پارلیمان سے نہیں پوچھا ۔ حکومت نے ایران کے مسئلے پر ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا۔ ہمارا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ امریکہ کے ایما پر کیا گیا  ہے۔ لگ رہا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کے نام پر ہمیں ایک اور جنگ میں گھسیٹا جارہا ہے ۔  جب حکومت عوام کے ووٹوں سے آئی نہیں ہے تو عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں۔

پیپلز پارٹی کے رکن فتح اللہ خان نے کہا کہ ڈی آئی خان کے مسائل کو دیکھ کر بجٹ نہ بنایا گیا تو ایوان میں بھوک ہڑتال کروں گا ۔ ہر بار حکومت بجٹ اس علاقے کے نمائندوں کو پوچھے بغیر بنا دیتی ہے ۔  دریائے سندھ ہر سال زرعی زمین بہالے جاتا ہے ۔  سال 2022میں وزیر اعظم نے ڈیرہ کے سیلاب زدگان کے لیے اعلانات کیے، مگر عمل نہیں ہوا ۔ل پی پی سے زیادتی ہوتی رہی تو میں اس پارلیمان کے باہر بھوک ہڑتال کروں گا

About The Author