ایم ایم بی ٹی یو گیس لیوی کا جھٹکا، برآمدی شعبہ دباؤ کا شکار، 60 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف خطرے میں

1,243 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو گیس لیوی کا جھٹکا، برآمدی شعبہ دباؤ کا شکار، 60 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف خطرے میں:

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (PTC) پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے آف گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس پر دسمبر 2025 کے لیے فی ایم ایم بی ٹی یو 1,243 روپے لیوی عائد کرنے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے، جو آف گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی ایکٹ 2025 کے تحت نافذ کی گئی ہے۔

کونسل کے مطابق یہ اقدام ملکی پیداواری معیشت کے لیے ایک پالیسی جھٹکا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکومت “اُڑان پاکستان” کے تحت برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کی کوشش کر رہی ہے، برآمدی شعبے پر حالیہ تاریخ کی بلند ترین گیس لیویز میں سے ایک نافذ کر دی گئی ہے۔ چند ماہ کے اندر یہ لیوی 402 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر 1,243 روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اس میں 20 فیصد اضافے کی شق بھی شامل ہے۔

پی ٹی سی کے مطابق اس کے اثرات فوری طور پر نمایاں ہو چکے ہیں۔ برآمدی شعبے میں گیس کی طلب کم ہو گئی ہے، قومی لائن پیک خطرناک حدوں کو عبور کر چکا ہے، 300 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس کی فراہمی کم کر دی گئی ہے، ایل این جی کارگوز کو موڑا جا رہا ہے اور گیس یوٹیلیٹیز کو ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

چیئرمین پی ٹی سی فواد انور نے کہا کہ یہ لیوی اوگرا کی مقررہ قیمتوں کے علاوہ نافذ کی گئی ہے جس سے نرخوں کے استحکام کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ اگر ریگولیٹر کی مقرر کردہ قیمتوں میں ایگزیکٹو نوٹیفکیشن کے ذریعے اضافہ کیا جا سکتا ہے تو پھر پاکستان میں کوئی بھی توانائی قیمت حتمی نہیں رہتی۔ اس سے سرمایہ کار منصوبہ بندی نہیں کر سکتے، صنعت لاگت کا اندازہ نہیں لگا سکتی اور بینک فنانسنگ میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں، جس سے معیشت میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت کیپٹو پاور پلانٹس پر “کو جنریشن کے ساتھ یا بغیر” یکساں ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جدید اور مؤثر کمبائنڈ ہیٹ اینڈ پاور (CHP) سسٹمز کو بھی غیر مؤثر نظاموں کی طرح سزا دی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر سی ایچ پی نظام کو اخراج کم کرنے اور ایندھن کے بہتر استعمال کے لیے مراعات دی جاتی ہیں، مگر پاکستان میں مؤثر نظام کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔

پی ٹی سی کا کہنا ہے کہ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم دیگر صارفین کے لیے بجلی نرخ کم کرنے پر خرچ کی جائے گی، جس کا مطلب ہے کہ برآمدی شعبے کو دوسرے شعبوں کی سبسڈی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کونسل کے مطابق کوئی بھی مسابقتی برآمدی معیشت اس طرز پر کام نہیں کرتی۔

چیئرمین فواد انور نے مزید کہا کہ یہ لیوی معاشی طور پر غیر معقول اور حکمت عملی کے لحاظ سے نقصان دہ ہے۔ اگر پاکستان 60 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے تو پالیسیوں کو پیداواری شعبوں کی معاونت کرنی چاہیے نہ کہ ان پر اضافی بوجھ ڈالنا چاہیے۔

پی ٹی سی نے مطالبہ کیا ہے کہ ریگولیٹر کی مقرر کردہ قیمتوں کو بحال کیا جائے، مؤثر کو جنریشن نظام کو تحفظ دیا جائے، توانائی نرخوں میں کراس سبسڈی ختم کی جائے اور توانائی پالیسی کو برآمدی مسابقت اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کیا جائے۔

About The Author