کراچی:
پاکستان کا ٹیکس نظام ایک بار پھر اہم موڑ پرکھڑا ہے جہاں حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا فوری محصولات کے حصول کو ترجیح دی جائے یا طویل مدتی معاشی استحکام کیلیے ٹیکس بنیاد کو وسعت دی جائے۔
ماہرین کے مطابق دہائیوں سے ملک کی معاشی پالیسی مالی دباؤ، قرض دہندگان کے اثرورسوخ اور محصولات کے اہداف کے گرد گھومتی رہی ہے، جبکہ بنیادی اصلاحات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں سپرٹیکس سے متعلق مختصر عدالتی حکم کے بعد ٹیکس حکام کی جانب سے فوری ریکوری نوٹسزکے اجرا نے کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے، پاکستان کا ٹیکس نظام بنیادی طور پر براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔
براہِ راست ٹیکس میں انکم ٹیکس شامل ہے، جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں میں سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شامل ہیں

More Stories
بابر، شاہین اور شاداب کو باہر بٹھاؤ، نئے لڑکوں کو موقع دو، آفریدی بھارت سے شکست کے بعد برہم
بنگلادیشی وزیراعظم طارق رحمان کی تقریب حلف برداری میں پاکستان کی نمائندگی احسن اقبال کریں گے
معرکہ حق میں خفت کے بعد بھارت کے جنگی جنون میں اضافہ، 26 کے بجائے 31 رافیل طیارے خریدے گا