ایران کی اسلامی جمہوریہ ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں معاشی تباہی نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی شام سے ایران میں مکمل قومی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ ہے، جو احتجاج کو روکنے کی حکومت کی آخری کوشش معلوم ہوتی ہے۔یہ بلیک آؤٹ احتجاج کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی آیا جب تہران سمیت ملک بھر کے شہروں میں لاکھوں افراد نے سڑکیں بلاک کر دیں اور نظام کے خلاف نعرے لگائے۔قطری خبر رساں ادارے کے رپورٹر توحید اسدی نے تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کی رات 8 بجے سے دارالحکومت کے متعدد محلے سڑکوں پر نکل آئے۔شہر کے مرکزی علاقوں سے گزرتے ہوئے کئی سڑکیں بلاک تھیں، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور سیاسی قیادت کے خلاف سخت نعرے سنائی دے رہے تھے

More Stories
بابر، شاہین اور شاداب کو باہر بٹھاؤ، نئے لڑکوں کو موقع دو، آفریدی بھارت سے شکست کے بعد برہم
بنگلادیشی وزیراعظم طارق رحمان کی تقریب حلف برداری میں پاکستان کی نمائندگی احسن اقبال کریں گے
معرکہ حق میں خفت کے بعد بھارت کے جنگی جنون میں اضافہ، 26 کے بجائے 31 رافیل طیارے خریدے گا