ایران کی اسلامی جمہوریہ ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں معاشی تباہی نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی شام سے ایران میں مکمل قومی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ ہے، جو احتجاج کو روکنے کی حکومت کی آخری کوشش معلوم ہوتی ہے۔یہ بلیک آؤٹ احتجاج کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی آیا جب تہران سمیت ملک بھر کے شہروں میں لاکھوں افراد نے سڑکیں بلاک کر دیں اور نظام کے خلاف نعرے لگائے۔قطری خبر رساں ادارے کے رپورٹر توحید اسدی نے تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کی رات 8 بجے سے دارالحکومت کے متعدد محلے سڑکوں پر نکل آئے۔شہر کے مرکزی علاقوں سے گزرتے ہوئے کئی سڑکیں بلاک تھیں، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور سیاسی قیادت کے خلاف سخت نعرے سنائی دے رہے تھے

More Stories
ایران کا جنگ میں امریکا کے دوسرے جدید ترین لڑاکا طیارے F-35 کو تباہ کرنے کا دعویٰ
گورنر پنجاب اور گورنر خیبرپختونخوا کے درمیان پیڈل ٹینس کا دلچسپ مقابلہ
نوشہرہ: غیر قانونی ذخیرہ شدہ ایک لاکھ 5 ہزار لیٹر پیٹرول اور ڈیزل ضبط