پاکستان میں خود کفیل فلاحی ماڈل پر مبنی ’’فوجی فاؤنڈیشن‘‘ جیسا اہم ادارہ خدمت اور قومی وقار کی علامت بن گیا۔
گزشتہ 70 برس سے فوجی فاؤنڈیشن نے ثابت کیا کہ ریٹائرڈ فوجیوں، شہداء اور بیواؤں کی فلاح ریاست پر بوجھ نہیں ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن ملک کی 5 فیصد آبادی یعنی ایک کروڑ مستحق افراد کی معاونت کر رہی ہے۔
فوجی فاؤنڈیشن اپنی سالانہ آمدن کا 70 فیصد سے زائد حصہ تقریباً 12 سے 14 ارب روپے فلاحی سرگرمیوں پر خرچ کرتی ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن کے تحت 74 طبی مراکز فعال ہیں، جن میں 11 اسپتال اور 63 کلینکس شامل ہیں۔
فوجی فاؤنڈیشن کے طبی اداروں میں 1940 سے زائد بستروں پر سالانہ 50 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے
پاکستان میں خود کفیل فلاحی ماڈل پر مبنی ’’فوجی فاؤنڈیشن‘‘ جیسا اہم ادارہ خدمت اور قومی وقار کی علامت بن گیا۔
گزشتہ 70 برس سے فوجی فاؤنڈیشن نے ثابت کیا کہ ریٹائرڈ فوجیوں، شہداء اور بیواؤں کی فلاح ریاست پر بوجھ نہیں ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن ملک کی 5 فیصد آبادی یعنی ایک کروڑ مستحق افراد کی معاونت کر رہی ہے۔
فوجی فاؤنڈیشن اپنی سالانہ آمدن کا 70 فیصد سے زائد حصہ تقریباً 12 سے 14 ارب روپے فلاحی سرگرمیوں پر خرچ کرتی ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن کے تحت 74 طبی مراکز فعال ہیں، جن میں 11 اسپتال اور 63 کلینکس شامل ہیں۔
فوجی فاؤنڈیشن کے طبی اداروں میں 1940 سے زائد بستروں پر سالانہ 50 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے

More Stories
بابر، شاہین اور شاداب کو باہر بٹھاؤ، نئے لڑکوں کو موقع دو، آفریدی بھارت سے شکست کے بعد برہم
بنگلادیشی وزیراعظم طارق رحمان کی تقریب حلف برداری میں پاکستان کی نمائندگی احسن اقبال کریں گے
معرکہ حق میں خفت کے بعد بھارت کے جنگی جنون میں اضافہ، 26 کے بجائے 31 رافیل طیارے خریدے گا