نیویارک:
پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ افغان سرزمین سے پھوٹنے والی دہشت گردی پاکستان کی قومی سلامتی اور خودمختاری کے لیے سب سے سنگین خطرہ ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا کہ محترمہ صدر میں ابتدا میں سلووینیا کی صدارت اور اس ماہ کونسل کی مؤثر قیادت پر اسے خراجِ تحسین پیش کرنا چاہوں گا۔
ہم سلووینیا کے وفد کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے بطور منتخب رکن اپنی دو سالہ مدت کے دوران کونسل کے کام میں جو عزم، محنت اور قیمتی خدمات انجام دیں، وہ قابلِ قدر ہیں۔
میں ابتدا میں سلووینیا کی صدارت اور اس ماہ کونسل کی مؤثر قیادت پر اسے خراجِ تحسین پیش کرنا چاہوں گا۔ ہم سلووینیا کے وفد کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے بطور منتخب رکن اپنی دو سالہ مدت کے دوران کونسل کے کام میں جو عزم، محنت اور قیمتی خدمات انجام دیں، وہ قابلِ قدر ہیں۔
ہم سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہیں اور UNAMA کی ڈپٹی اسپیشل ریپریزنٹیٹو اور قائم مقام سربراہ، محترمہ جیورجیٹ گینن کی بریفنگ پر ان کے شکر گزار ہیں۔
ہم UNAMA کے کردار اور ان کے اس کام کی قدر کرتے ہیں جو وہ نہایت مشکل حالات میں انجام دے رہے ہیں۔ ہم انسانی صورتحال پر ان کی بصیرت افروز بریفنگ کے لیے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر کے بھی شکر گزار ہیں، اور سول سوسائٹی کی نمائندہ محترمہ نگینہ یاری کے اظہارِ خیال کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔
محترمہ صدر،
طالبان کے اقتدار سنبھالنے کو چار سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے ایک ایسا واقعہ جس نے خانہ جنگی کا خاتمہ کیا اور افغانستان کے لیے امید کی ایک کرن پیدا کی، اگرچہ اس کے ساتھ گہری خدشات اور شکوک بھی موجود تھے۔
اچھے ہمسائیگی کے تقاضوں اور ایک پُرامن و مستحکم افغانستان کے لیے ہماری دیرینہ وابستگی اور دلچسپی کے تحت، پاکستان نے اس تمام عرصے کے دوران طالبان حکام کے ساتھ باقاعدہ اور مسلسل رابطہ رکھا۔
صرف اس سال ہی ہم نے افغانستان کے کئی اعلیٰ سطحی دورے کیے، متعدد نئے اقدامات شروع کیے، انسانی ہمدردی کی امدادی کوششوں میں تعاون کیا، سامان کی نقل و حمل میں سہولت فراہم کی، اور تجارت و ٹرانزٹ میں رعایات کا اعلان کیا۔ ہم افغانستان سے متعلق مختلف علاقائی عملوں میں بھی فعال طور پر شریک رہے ہیں۔
یہ بات یاد رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ طالبان سے بین الاقوامی برادری کی کئی توقعات وابستہ تھیں بالخصوص اس عہد کی پاسداری کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آج اس میز پر موجود متعدد معزز ساتھیوں نے بھی اسی جانب اشارہ کیا ہے۔
بدقسمتی سے بین الاقوامی برادری کے ابتدائی تحفظات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ درست ثابت ہوتے گئے اور مزید گہرے ہوتے چلے گئے۔
آج افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں اور ان کے پراکسی (Proxy) عناصر کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جس کے تباہ کن نتائج اس کے ہمسایہ ممالک، خصوصاً پاکستان، کے لیے شدید سکیورٹی چیلنجز اور خطے سے باہر تک اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
افسوسناک طور پر طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس، مؤثر اور فیصلہ کن کارروائیوں کے بجائے ہم نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں شدید اضافہ دیکھا ایسے حملے جو طالبان کے زیرِ انتظام افغان سرزمین سے منصوبہ بندی، مالی تعاون اور عمل درآمد کے ساتھ کیے گئے۔
صرف اس سال ہی افغانستان سے آنے والی دہشت گردی کے باعث ہمارے تقریباً 1,200 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ 2022 سے اب تک، پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران 214 سے زائد افغان دہشت گرد، جن میں خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کو مارا بنایا جا چکا ہے۔
محترمہ صدر،
افغان سرزمین سے پھوٹنے والی دہشت گردی پاکستان کی قومی سلامتی اور خودمختاری کے لیے سب سے سنگین خطرہ ہے۔ داعش خراسان (ISIL-K)، القاعدہ، ٹی ٹی پی، ای ٹی آئی ایم (ETIM)، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سمیت متعدد دہشت گرد تنظیمیں افغانستان کی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
درجنوں دہشت گرد کیمپ وہاں موجود ہیں جو سرحد پار دراندازی اور خودکش حملوں سمیت تشدد آمیز کارروائیوں کو ممکن بناتے ہیں۔
جیسا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے بھی تصدیق کی ہے، ٹی ٹی پی تقریباً 6,000 جنگجوؤں کے ساتھ افغان سرزمین پر موجود سب سے بڑی اقوام متحدہ کی نامزد کردہ دہشت گرد تنظیم ہے۔
پاکستان نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کی افغانستان سے دراندازی کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا ہے اور بین الاقوامی افواج کے چھوڑے گئے جدید فوجی ساز و سامان کے بڑے ذخیرے ضبط کیے ہیں۔ ان کوششوں کی انسانی قیمت بھی ادا کی گئی ہے جس میں ہماری بہادر سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔
طالبان کی صفوں کے اندر موجود کچھ عناصر ان دہشت گرد گروہوں کی حمایت کر رہے ہیں اور انہیں آزادانہ اور بے خوف سرگرمیوں کے لیے محفوظ راستے فراہم کر رہے ہیں۔
ایسے ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد گروہ باہمی تعاون کر رہے ہیں جس میں مشترکہ تربیت، غیر قانونی اسلحہ کی تجارت، دہشت گردوں کو پناہ، اور افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف مربوط حملے شامل ہیں۔
اور حیرت کی بات نہیں کہ خطے کا ایک بدخواہ، موقع پرست اور ہمیشہ کی طرح بگاڑ پیدا کرنے والا ملک، پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں اور پراکسیوں (Proxies) کی مادی، تکنیکی اور مالی سرپرستی میں مزید شدت لانے کے لیے تیزی سے متحرک ہو گیا ہے، جو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں۔
ہمارا یقین ہے کہ UNAMA کو اپنی ذمہ داری کے مطابق افغانستان اور خطے میں غیر قانونی تجارت، چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کے غیر مستحکم کرنے والے پھیلاؤ اور ان کی منتقلی کو روکنے کے لیے اپنی کوششوں کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔

More Stories
بابر، شاہین اور شاداب کو باہر بٹھاؤ، نئے لڑکوں کو موقع دو، آفریدی بھارت سے شکست کے بعد برہم
بنگلادیشی وزیراعظم طارق رحمان کی تقریب حلف برداری میں پاکستان کی نمائندگی احسن اقبال کریں گے
معرکہ حق میں خفت کے بعد بھارت کے جنگی جنون میں اضافہ، 26 کے بجائے 31 رافیل طیارے خریدے گا