امریکی صدر نے ایپسٹین فائلز عام کرنے کا بل دستخط کر دیا

امریکی صدر نے ایپسٹین فائلز عام کرنے کا بل دستخط کر دیا۔رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسا قانون منظور کر دیا جس کے تحت محکمۂ انصاف (ڈی اوجے ) کو جنسی مجرم جیفری ایپستین سے متعلق اپنی طویل عرصے سے جاری تحقیقاتی فائلوں کو عوام کے سامنے لانا ہوگا۔ یہ فائلیں طویل عرصے سے ٹرمپ کے سیاسی مخالفین اور اُن کے کچھ حامیوں کی جانب سے بھی شفافیت کے مطالبے کے طور پر سامنے لائی جا رہی تھیں۔ایپسٹین ، جو 2008 میں کم عمر لڑکی سے جسم فروشی کرانے کے جرم میں سزا یافتہ ہوا تھا، ماضی میں ٹرمپ اور دیگر معروف شخصیات کے ساتھ میل جول رکھتا تھا۔

اس کیس کے گرد تنازع کئی ماہ سے ٹرمپ کے لیے سیاسی پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے، خصوصاً اس لیے کہ انہوں نے خود بھی ایپستین سے متعلق کئی سازشی نظریات کو فروغ دیا تھا۔بل کی منظوری سے قبل ٹرمپ نے ریپبلکن ارکانِ کانگریس کو اس کے خلاف ووٹ دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن جب یہ واضح ہوگیا کہ یہ قانون دو جماعتی حمایت کے ساتھ بہرحال منظور ہو جائے گا تو انہوں نے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا۔بل پر دستخط کے بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ اس قانون سے “کچھ ڈیموکریٹس اور جیفری ایپستین کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں سچ سامنے آئے گا”۔

انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس اس سکینڈل کو اُن کی کامیابیوں کو دھندلانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔اسی روز اٹارنی جنرل پام بونڈی نے نیوز کانفرنس میں تصدیق کی کہ محکمۂ انصاف 30 دن کے اندر ایپسٹین سے متعلق ریکارڈ جاری کر دے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ فائلز مکمل نہیں ہوں گی، کیونکہ قانون کے تحت ایپستین کی متاثرہ لڑکیوں کی ذاتی معلومات اور جاری تحقیقات کو متاثر کرنے والا مواد پبلک نہیں کیا جائے گا۔

About The Author