غزہ میں عمارتوں کے ملبے میں اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش شروع

غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش شروع کر دی گئی، نیتن یاہو کی منظوری کے بعد مصر کی ایک ٹیم گاڑیوں اور ساز و سامان کے ساتھ غزہ میں داخل ہو گئی ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مصر اور غزہ کے درمیان رفح گذرگاہ سے مصری ساز و سامان اور گاڑیاں اتوار کی صبح براہِ راست غزہ میں داخل ہوئیں، تاکہ غزہ میں ملبے تلے دے اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں تلاش کی جا سکیں۔

مصری ٹیم درجنوں لوڈرز، گاڑیوں اور ضروری ساز و سامان کے ساتھ غزہ میں داخل ہوئی ہے، یہ تلاش ان اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کے سلسلے میں ہے جو اسرائیل کے حملوں کے دوران تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دب گئی تھیں۔

ایک سینئر اسرائیلی عہدے دار نے حماس پر غزہ میں باقی 13 قیدیوں کی لاشوں کے حوالے کیے جانے میں رکاوٹ کا الزام عائد کیا تھا، تاہم امریکی دباؤ پر وزیر اعظم نیتن یاہو نے لاشیں نکالنے میں مدد کے لیے مصری ٹیم کے غزہ کی پٹی میں داخلے کی ذاتی طور پر منظوری دی۔

اس سے قبل اسرائیل نے مصری ٹیم کو اجازت دیے جانے سے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ حماس اپنے پاس موجود آلات کے ساتھ یرغمالیوں کی باقیات نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے، امریکی دباؤ اس لیے تھا کیوں کہ لاشوں میں 2 امریکیوں کی باقیات بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے، جس کے بعد سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت حماس نے 15 قیدیوں کی باقیات اسرائیل کے حوالے کر دی ہیں اور ابھی تک غزہ سے 13 دیگر یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہیں کی گئی ہیں۔

منصوبے کے مطابق اسرائیل واپس آنے والے ہر اسرائیلی کے بدلے 15 فلسطینیوں کی لاشیں حوالے کرے گا، حماس نے حالیہ دنوں میں بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ لاشوں کو نکالنے کا عمل پیچیدہ اور وقت طلب ہے، بالخصوص 2 سال کی تباہ کن جنگ کے بعد فلسطینی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی کے پیش نظر یہ عمل مزید مشکل ہو گیا ہے۔

About The Author