
سعودی عرب اور قطر نے شام پر واجب الادا ڈیڑھ کروڑ ڈالر سے زائد کا قرضہ ادا کردیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک نے اعلان کیا شام کا قرضہ ادا کردیا گیا ہے شام اب مقروض نہیں رہا اور نئے قرضوں کے لیے اہل ہے۔
ورلڈ بینک نے کہا کہ 14 سال بعد شام میں اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرینگے، پہلا منصوبہ بجلی کی ترسیل اور رسائی کو بہتر بنانے کے حوالے سے ہوگا، کیونکہ یہ طبی سہولیات، تعلیم اور پانی کی فراہمی جیسی بنیادی ضروریات کے لیے اہم ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورہ سعودی عرب کے دوران شام پر سے پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا تھا جبکہ اس ہفتے کے اوائل میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب میں شام کے صدر احمد الشارع سے ملاقات بھی کی تھی۔
واضح رہے کہ شام کے سابق صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے اور ملک کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے والی خانہ جنگی کے خاتمے کے مہینوں بعد، ملک میں بجلی کی شدید قلت جاری ہے۔

More Stories
’’خیبر پختونخوا میں گورنر راج‘‘ رانا ثنا اللہ نے بڑی بات کہہ دی
سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ
امریکا نے غزہ استحکام فورس کے قیام کی قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کر دی