جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی سے متعلق سفارتی سرگرمیوں سے مطمئن نہیں ہوں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا کوئی سفارتی مشن بیرون ملک نہیں، صرف ٹیلی فون پر گفتگو کی گئی، ہمیں باہر ہونا چاہیے تھا، ہمیں چین، سعودی عرب، ایران اور افغانستان کو شامل کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی وحدت کے لیے ہم ایک ہیں، یہ وقت ملک کے دفاعی اداروں کو مضبوط کرنے کا ہے، یہ وقت ہے کہ ہم دفاعی اداروں کو مضبوط کریں ان کی پشت پر کھڑے ہوں۔
مولانا فضل الرحمان نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 11 مئی کو پشاور میں بہت بڑا ملین مارچ ہوگا، 15 مئی کو کوئٹہ میں ملین مارچ ہوگا جس میں عوام یکجہتی کا اظہار کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ہے، جنگ میں پھول نہیں آگ برستی ہے، ملکی مفاد میں آپ کی صف میں کھڑا ہوں، آپ بھی میرے ساتھ صف میں کھڑے ہوں، حکومت یا اسٹیبلشمنبٹ سے نہیں پوچھتا کہ آپ کی کیا حکمت عملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان بھارتی جارحیت کے مقابلے میں محاذ پر ہے، بھارت نے مساجد، مدارس اور سویلین علاقوں پر راکٹ داغے، ہمارے بھائی بہن شہید ہوئے، پاکستان کی فوج نے بہادری کے ساتھ خوبصورت حکمت عملی سے دفاع کیا۔

More Stories
بابر، شاہین اور شاداب کو باہر بٹھاؤ، نئے لڑکوں کو موقع دو، آفریدی بھارت سے شکست کے بعد برہم
بنگلادیشی وزیراعظم طارق رحمان کی تقریب حلف برداری میں پاکستان کی نمائندگی احسن اقبال کریں گے
معرکہ حق میں خفت کے بعد بھارت کے جنگی جنون میں اضافہ، 26 کے بجائے 31 رافیل طیارے خریدے گا